Ahmad faraz poetry



(1)


سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں

یہ بات ہے تو چلوبات کرکے دیکھتے ہیں۔


(2)


محبت ان دنوں کی بات ہے فرازؔ

جب لوگ سچے اورمکان کچے تھے۔


(3)


چراغ جلاناتوپُرانی رسمیں ہیں فرازؔ

اب تو تیرے شہر کے لوگ انسان جلادیتے ہیں


(4)


ٹپک پڑتے ہیںآنسو جب یاد تمہاری آتی ہے فرازؔ

یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا۔


(5)


نیند کیا آئے گی فرازؔ

موت آئی تو سولیں گے۔


(6)


اب تو درد سہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے فرازؔ

جب درد نہیں ملتا تو دردہوتاہے۔


(7)



مجھ سے کہتی ہے تیرے ساتھ رہونگی فرازؔ

بہت پیار کرتی ہے مجھ سے اداسی میری۔


(8)


روؤں کے ہنسُو ں سمجھ نہ آئے

ہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤ۔


(9)


چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا

سوآگیا ہے تمہاراخیال ویسے ہی ۔


(10)


ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فرازؔ

وہ چاہتاتھامگر حوصلہ نہ تھا اس کا۔


(11)


اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

آج میں نے پہلی بار اس سے بے وفائی کی۔


(12)


اب تیرے ذکرپہ ہم بات بدل دیتے ہیں

کتنی رغبت تھی تیرے نام سے پہلے پہلے۔


(13)


سنا ہے تمہاری ایک نگاہ سے قتل ہوتے ہیں لوگ فرازؔ

ایک نظر ہم کو بھی دیکھ لوکے زندگی اچھی نہیں لگتی ۔


(14)


دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے

جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہترہے۔


(15)


یوں پھر رہاہے کانچ کا پیکرلیے ہوئے

غافل کو یہ گمان ہے کہ پتھر نہ آئے گا۔


(16)


میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ

ایک جھونکاتھاکہ خوشبوکے سفرپر نکلا۔


(17)


شاید تو کبھی پیاسا میری طرف لوٹ آئے فراز

آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں دریاتیری خاطر۔


(18)


کھلے تو اب بھی گلشن میں پھول ہیں لیکن

نہ میرے زخم کی صورت ، نہ تیرے لب کی طرح۔


(19)


میں شب کا بھی مجرم ہوں سحر کا بھی ہوں مجرم

یارو مجھے اس شہر کے آداب سکھادو۔


(19)


سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سواس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں ۔


(20)


بندگی ہم نے چھوڑدی ہے فرازؔ

کیا کریں لوگ جب خداہوجائیں۔


(21)


کہ اپنے حرف کی تو قیر جانتاتھافرازؔ

اسی لئے کفِ قاتل پہ سراسی کارہا۔


(22)


میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا

کہ دل کا زہرمری چشم ترسے نکلاتھا۔


(23)


میں نے یہ سوچ کرتسبیح ہے توڑدی فرازؔ

کیا گن گن کرمانگوں اس سے ، جو بے حساب دیتاہے۔


(24)


اک پل میں جو برباد کر دیتے ہیں دل کی بستی کوفرازؔ

وہ لوگ دیکھنے میں اکژمعصوم ہوتے ہیں ۔


(25)


مجھ سے ہر بار نظریں چُرالیتا ہے

میں نے کاغذ پر بھی بنا کے دیکھی ہیں آنکھیں اُس کی ۔


(26)


سُنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو بربادکرکے دیکھتے ہیں۔


(27)


ضبط غم اس قدر آساں نہیں فرازؔ

آگ ہوتے ہیں وہ آنسو جو پیے جاتے ہیں


(28)


کبھی ملے فرصت تو ضروربتانافرازؔ

وہ کون سی محبت تھی جوہم تمہیں نہ دے سکے۔


(29)


دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے

جو کسی اور کاہونے دے ،نہ اپنارکھے۔


(29)


کون کس کے ساتھ مخلص ہے فرازؔ 

وقت ہر شخص کی اوقات بتادیتاہے۔



(30)


دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے

جو کسی اور کاہونے دے ،نہ اپنارکھے۔


(31)


وہ روز دیکھتاہے ڈوبتے ہوئے سورج کوفرازؔ

کاش میں بھی کسی شام کا منظرہوتا۔


(32)


اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں۔


(33)


اس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھاہے فرازؔ

رونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی۔


(34)


محبت کرسکتے ہو تو خُداسے کروفرازؔ

مٹی کے کھلونوں سے کبھی وفانہیں ملتی۔


(35)


ذکر اس کا سہی بزم میں بیٹھے ہوفرازؔ

دردکیساہی اٹھے ہاتھ نہ دل پر رکھنا۔


(36)


آؤ رولیں فرازؔ دنیاکو

خوش دل نامراد ہو کچھ تو۔


(37)


ہجر کی رات بہت لمبی ہے فرازؔ

آؤ اُس کی یاد میں تھک کہ سوجائیں۔


(38)


ہم نے آغاز محبت میں ہی لُٹ گئے ہیں فرازؔ

لوگ کہتے ہیں کہ انجام بُراہوتاہے۔


(39)


محبت ملی تو نیند بھی اپنی نہ رہی فرازؔ

گم نام زندگی تھی تو کتناسکون تھا۔


(40)


ہم کو اچھانہیں لگتاکوئی ہم نام تیرا

کوئی تجھ ساہوتوپھر نام بھی تجھ سارکھے۔


(41)


ہزار بار مرنا چاہانگاہوں میں ڈوب کرہم نے فرازؔ

وہ نگائیں جھکالیتی ہے ہمیں مرنے نہیں دیتی۔


(42)


ہم چراغوں کوتوتاریکی سے لڑناہے فرازؔ

گل ہوئے پر صبح کے آثاربن جائیں گے ہم۔


(43)


تمام عمر اسی کے خیال میں گزری فرازؔ

میراخیال جسے عمر بھر نہیںآیا۔


(44)


کسی سے جُداہونا اگر اتناآسان ہوتا فرازؔ

تو جسم سے رُوح کو لینے کبھی فرشتے نہیں آتے۔


(45)


دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جان فرازؔ

مل گئے تم بھی توکیااور نہ جانے مانگے۔


(46)


دل منافق تھا، شب ہجرمیں سویاکیسے

اور جب تجھ سے ملا، ٹوٹ کے رویاکیسے۔ 


(47)


اس شخص سے فقط اتناساتعلق ہے فرازؔ

وہ پریشان ہوتو ہمیں نیندنہیں آتی ۔


(48)


میں جس کی راہ پہ ہوں ہرجگہ پہ ہے موجود

میں جس سفرپہ ہوں خود باعث سفرہے مجھے۔


(49)


اس کی وہ جانے اسے کے پاس وفاتھا کہ نہ تھا

تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے۔


(50)


میں فنا ہوگیا وہ بدلا پھر بھی نہیں فرازؔ

میری چاہت سے بھی سچی تھی نفرت اس کی۔


************$hear*******more**** poetry********watch**********************













Comments