Ahmed Nadeem Qasim
(1)
جو دل دُکھا ہے یہ تو عزم بھی ملا ہے ہمیں
تمام عمر کسی کا نہ دل دُ کھا ئیں گے ہم
(2)
ان کا آ ناکچھ حشر سے کم نہ تھا
اور جب وہ پلٹے تو قیامت ڈھا گئے
(3)
فِر دوسِ جنت میں لاکھ حُوروں کا تصوّر سہی
میں اِک شخص کے عشق سے نکلُوں تو وہاں تک سو چوں
(4)
خُدا کرے کہ تیری عمر میں گِنے جا ئیں
وہ دن جو ہم نے تیرے ہجر میں گُزارے تھے
(5)
تمہاری بات لمبی ہے دلیلیں ہیں بہانے ہیں
ہماری بات صرف اتنی ہے ہماری زندگی صرف تم ہو
Comments
Post a Comment