Allama Iqbal Urdu Poetry

 




(1)

چھوڑ یو رپ کے لیے رقصِ بدن خم و بیچ

رُوح کے رقص میں ہے بو ئے الہی۔


(2)


دلوں کی عما رتوں میں کہیں بندگی نہیں

پتھروں کی مسجدوں میں خدا دھونڈتے ہیں لوگ۔


(3)


دل کی آ زادی شہنشاہی ، شکم سامان موت

فیصلہ تیرا تیرے ہا تھوں میں ہے ،دل یا شکم۔


(4)


دل پاک نہیں تو پاک ہو سکتا نہیں انسان

ورنہ ابلیس کو بھی آ تے تھے وضو کے فرا ئض بہت۔


(5)


ہزاروں سال نرگس اپنی بے نو ری پے روتی ہے

بڑی مشکل سے ہو تا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔


(6)


من کی دولت ہاتھ آ تی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے ،آ تا ہے دھن جاتا ہے دھن۔


(7)


یورپ کی غلامی پے رضا مند ہوا تُو

مجھ کو گلہ تجھ سے ہے یو رپ سے نہیں ہے۔


(8)


ہو ئے مد فونِ دریا زیرِ دریا تیرنے والے

طمانچے موج کے کھا تے تھے جو بن کر گہر نکلے۔


(9)


مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا

مری خاک جگنو بنا کر اڑا۔


(10)


کہاں سے تو نے اے اقبالؔ سیکھی ہے درویشی

کہ چرچا با د شاہوں میں ہے تیری بے نیا زی کا۔


(11)


علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن

عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمینِ وظن۔


(12)


خو دی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا

وہی مملکتِ صبح و شام سے آ گاہ۔


(13)


میرے بچپن کے دن بھی کیا خو ب تھے اقبالؔ

بے نما زی بھی تھا اور بے گناہ بھی۔


(14)


ایک بار آ جا اقبال ؔ پھر کسی مظلوم کی آ واز بن کر

تیری تحریر کی ضرورت ہے کسی خامو ش تقر یر کو یہاں۔


(15)


قوتِ وشق سے ہر پست کو با لا کردے

دہر میں اسمِ محمدﷺ اجالا کردے۔


(16)


سبب کچھ اور ہے ،تو جس کو خو د سمجھتا ہے

زوال بندۂ مو من کا بے زری سے نہیں۔


(17)


صبح کو باغ میں شبنم پڑتی ہے فقط اس لیے

کہ پتّا پتّا کرے تیرا ذکر با وضوہو کر۔


(18)


ضمیر جا گ ہی جاتا ہے ،اگر زندہ ہو اقبالؔ

کبھی گناہ سے پہلے ،تو کبھی گناہ سے پہلے۔


(19)


ڈھو نڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آ پ کو

آ پ ہی گو یا مسافر آ پ ہی منزل ہوں میں۔


(20)


بات سجدوں کی نہیں خلوصِ دل کی ہو تی ہے اقبالؔ

ہر میخا نے میں شرابی اور ہر مسجد میں نمازی نہیں ہو تا۔


(21)


کا فر ہے تو شمشیر پے کرتا بھروسہ

مو من ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔


(22)


اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشاں کو

وہ داغِ محبت دے جو چاند کو شرمادے۔


(23)


وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قر آ ں ہو کر۔


(24)


ہنسی آ تی ہے مجھے حسر تِ انسان پر

گناہ کرتا ہے خود،لعنت بھیجتا ہے شیطان پر۔


(25)


جفا جو عشق میں ہو تی ہے وہ جفا ہی نہیں

ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں۔


(26)


خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے

مسلماں کو ہے ننگ وہ پاد شائی۔


(27)


بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نو امیدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے۔


(28)


سجدہ خالق کو بھی ، ابلیس سے یا رانہ بھی

حشر میں کس سے محبت کا صلہ مانگے گا؟


(29)


داغِ سجود اگر تیری پیشا نی پر ہوا تو کیا

کو ئی ایسا سجدہ بھی کر کہ زمیں پر نشاں ر ہیں۔


(30)


کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبالؔ

وہ کون سا کام ہے جو ہو تا نہیں تیرے خدا سے۔


(31)


دیا رِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ ،نئی صبح و شام پیدا کر۔


(32)


صدقِ خلیل بھی ہے عشق ، صبرِ حسین بھی ہے عشق

معر کہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق۔


(33)


اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی نا خو ش

میں زہر ہلا ہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند۔


(34)


یوں تو خدا سے مانگنے جنت گیا تھا میں

کرب و بلا کو دیکھ کر نیت بدل گئی۔


(35)


خو دی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پو چھے بتا تیری رضاکیا ہے۔


(36)


تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خد مت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گو با د شا ہو ں کے خزینوں میں ہر


(37)


پرندوں کی دُنیا کا درویش ہوں میں

کہ شا ہین بنا تا نہیں آ شیا نہ


(38)


سجدوں کی عوض فردوس ملے یہ با ت مجھے منظو ر نہیں

بے لو ث عبا دت کرتا ہوں بندہ ہوں تیرا مز دور نہیں


(39)


تیرے عشق کی انتہا چا ہتا ہوں

میری سا دگی دیکھ میں کیا چا ہتا ہوں


(40)


کا فر کی یہ پہچا ن ہے کہ آ فا ق میں گُم ہے

مو من کی یہ پہچان کہ گُم اُس میں ہے آ فا ق


(41)

دُعا تو دل سے ما نگی جا تی ہے ،زبان سے نہیں

اے اقبال

قبول تو اس کی بھی ہو تی ہے جس کی زباں نہیں ہو تی۔


(42)


یوں تو سید بھی ہو ،مرزا بھی ہو ، افغان بھی ہو تم

یوں تو سبھی کچھ ہو بتا ؤ تو مسلمان بھی ہو تم؟


(43)


اذان تو ہو تی ہے اب مگر نہیں کو ئی مو ذن بلال سا

سر بسجدہ تو ہیں مو من مگر نہیں کو ئی زہراؑ کے لال سا۔


(44)


حقیقت خرافات میں کھو گئی

یہ امت روایا ت میں کھو گئی۔


(45)


ستاروں سے آ گے جہا ں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔


(46)


اپنے کردار پے ڈال کر پردہ اقبالؔ

ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے۔


(47)


عقل عیّار ہے ،سو بھیس بنا لیتی ہے

عشق بے چارہ نہ مُلّا ہے ،نہ زاہد ،نہ حکیم۔


(48)


حُسن کردار سے نو رِ مجسم ہو جا

کہ اِ بلیس بھی تجھے دیکھے تو مسلمان ہو جا ئے۔


(49)


شاہین کبھی پر واز سے گِر کر نہیں مرتا

پر دم ہے اگرتو، تو نہیں خطرۂ افتاد۔


(50)


اُس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا

جو یہ کہتا تھا خِرد سے کہ بہانے نہ تراش۔


نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آ سماں کے لئے

جہاں ہے تیرے لئے ،تو نہیں جہاں کے لئے۔


(42)









Comments