(1)
کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے ، بس انسان وقت کے
ساتھ ان کو چھپانے کا سلیقہ سیکھ جاتا ہے ۔
(2)
ایماں کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہنا
کفرکے ساتھ محل میں رہنے سے بہترہے۔
(3)
نیک لوگوں کی صحبت سے ہمیشہ بھلائی ملتی ہے کیونکہ
ہواپھولوں سے گزرتی ہے تو وہ بھی خوشبودارہوجاتی ہے۔
(4)
معافی وہ انسان دے سکتاہے جو اندر سے مضبوط ہو
کھوکھلے انسان صرف بدلے کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔
(5)
غصے کے وقت ٹھہرجاؤ اور غلطی کے وقت
جھک جاؤ تو پھر کوئی مسئلہ کبھی نہیں ہوگا۔
(6)
جو ملا وہ بہتر ین ملا جونہیں
ملا اس میں بہتری تھی۔
(7)
افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نیکی اس وقت
کرتے ہیں جب برائی کے قابل نہیں رہتے۔
(8)
جب انسان اندر سے مر جاتا ہے
وہ حد سے زیادہ خو ش اخلاق ہو جاتا ہے
(9)
ہم اللہ کو ایک ما نتے ہیں مگر
ہم اللہ کی ایک نہیں ما نتے
(10)
جب سو رج غروب ہو نے لگتا ہے
تو چھو ٹے آ د میوں کے سا ئے بھی بڑے ہو جا تے ہیں
(11)
وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ کبھی نہیں ملتا
(12)
لفظ کہنے وا لوں کا کچھ نہیں جاتا
لفظ سہنے والے کما ل کرتے ہیں
(13)
مسلمانوں کاہرفرقہ ہی ایک دوسرے کوکافرکہتاہے
بس ایک کافرہی ہم سب کو مسلمان کہتاہے۔
(14)
ایک دن ہم سب ایک دوسرے کویہ سوچ کرکھودیں گے
کہ جب وہ یادنہیں کرتاتومیں اسے کیوںیادکروں۔
(15)
رہنے کی کچھ بہترین جگہوں میں
سے ایک اپنی "اوقات "بھی ہے۔
(16)
میں جانتا ہوں کہ میں کچھ تو ہوں کیونکہ
میرا رب کوئی بھی چیز بے کار نہیں بناتا۔
(17)
وہی بچے ہمارے بڑھاپے کا سہاراہوتے ہیں
جنہوں نے ہمیں بوڑھابنایا ہوتاہے ۔
(18)
جس چھاؤں سے عزت نفس زخمی ہو
اس چھاؤں سے دھوپ ہی بہتر ہے۔
(19)
جب آنکھوں سے" سجدے" بہنے لگیں تو
قبولیت کے سمندر میں ضرور ہلچل ہوتی ہے۔
(20)
جب تک آدمی اندھا نہیں
ہوتا دیکھ نہیں پاتا۔
(21)
دنیا میں کبھی کسی اچھے انسان کو تلاش مت کرناخود اچھے
بن جاناہوسکتاہے آپکے اس کام سے کسی اور کی تلاش ختم ہوجائے۔
(22)
گناہ زہرکی مانند ہیں ،جوکم ہوںیا
زیادہ ہر صورت میں نقصان دہ ہیں۔
(23)
جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا
اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔
(24)
دُکھ جب حد سے بڑھ جاتاہے تو
انسان روتانہیں بلکہ خاموش ہوجاتاہے۔
(25)
تمہارہ اپنا وہ ہے جو کسی اور
کے لیے تمہیں نظر انداز نہ کرے۔
(26)
گناہ کیاہے؟گناہ اپنی پاکیزگی کے انکارکانام ہے
اپنی پاکیزگی کے احساس سے بڑی اور کوئی نیکی نہیں۔
(27)
صبر کا گھونٹ دوسروں کو پلاناآساں ہے خودپیتے ہوئے
پتاچلتاہے کہ ایک ایک قطرہ پیناکتنابھاری پڑتاہے۔
(28)
اگر بولنے والا یقین سے خالی ہوتو
سننے والے تاثیرسے محروم رہتے ہیں
(29)
علم اور عمل کے درمیان فاصلہ
جتنا کم ہو گا فائدہ اتنا ہی زیادہ ہو گا۔
(30)
اللہ والوں کا ظرف ہے کہ تکلیف کاذکر
کسی سے نہ کرنااور تکلیف میں بس سجدے کرنا۔

Comments
Post a Comment