(1)
تو ڑی جو اُس نے ہم سے تو جو ڑی رقیب سے
انشاءؔ تو بس میرے یا ر کے جو ڑ تو ڑ دیکھ
(2)
فرض کرو،یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھو نگ رچا یا ہُو
فرض کرو،بس یہی حقیقت ،با قی سب کچھ ما یا ہُو
(3)
مجھ میں اور میر ی بیوی میں بڑا عجیب سا اتفاق ہے
نیند کی گو لیاں وہ کھاتی ہے اور سکون مجھے ملتا ہے
(4)
ہم سے نہیں رشتہ بھی،ہم سے نہیں ملتا بھی
ہے پا س وہ بیٹھا بھی،دھو کہ ہو تو ایسا ہو
(5)
پھر اُن کی گلی میں جا ئے گا، پھر سہو کا سجدہ کرلے گا
اِس دل پے بھروسہ کون کرے ہر روز مسلمان ہو تا ہے

Comments
Post a Comment