(1)
اب سنورتے رہو بلا سے میری
دل نے سر کار خو د کشی کرلی۔
جون ایلیاءؔ
(2)
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حا لت خراب کرلی ہے۔
جون ایلیاءؔ
(3)
بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم
جب بس میں کچھ نہیں تو بیزار ہی رہو۔
جو ن ایلیاءؔ
(4)
تیرے جانے کے بعد بھی میں نے
تیری خو شبو سے گفتگو کی ہے۔
جون ایلیاء
(5)
پھر اس گلی سے اپنا گزر چا ہتا ہے یہ دل
اب اس گلی کو کو ن سی بستی سے لا ؤ ں میں۔
جون ایلیاءؔ
(6)
جرم میں ہم کمی کریں بھی کیوں
تم سزابھی تو کم نہیں کرتے ۔
(7)
دوسری بار بھی ہوتی تو، تمہی سے ہوتی
میں جو بالفرض محبت کو ، دوبارہ کرتا۔
(8)
پڑے ہیں ایک گوشے میں گماں کے
بھلاہم کیا، ہماری زندگی کیا۔
(9)
اب مجھ کو کو ئی دِلا ئے نہ محبت کا یقین
جو مجھے بُھو ل نہیں سکتے تھے وہی بُھو ل گئے
(10)
یہ مجھے چَین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا؟
(11)
اِک تیری برابری کے لئے
خو د کو کتنا گِرا چُکا ہوں میں
(12)
جانے کیا وا قعہ ہے ہو نے کو
جی چا ہتا ہے رونے کو
(13)
سو چتا ہوں کبھی کبھی یوں ہی
آ خر ہرج کیا تھا،اسے منا نے میں
(14)
اب کی بار اس کا حذف میری اناتھی
سو صلح کا پرچم جلادیامیں نے ۔
(15)
میرے اندر ہی تو کہیں گم ہے
کس سے پوچھوں ترانشاں جاناں۔
(16)
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفاکا ذکر
کاش!اس زباں درازکامنہ نوچ لے کوئی۔
(17)
میں بھی کتناعجیب ہوں اتناعجیب ہوں
کہ بس خود کوتباہ کرلیا اورملال بھی نہیں۔
(18)
آج وہ پڑھ لیا جس کو پڑھانہ جاسکا
آج کسی کتاب میں کچھ بھی لکھاہوانہیں۔
(19)
کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غورکرنے پہ یاد آتی ہے ۔
(20)
میں چاہتاہوں کہ اک حسین لڑکی
میرے عشق میں خود کشی کرلے۔
(21)
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم میری آخری محبت ہو۔
(22)
علاج یہ ہے کہ مجبور کردیا جاؤں
وگر نہ یوں تو کسی کی نہیں سنی میں نے۔
(23)
و حشتوں کابسیراہے مجھ میں
آج کل مجھ سے اجتناب کیجیئے ۔
(24)
نہ کوئی عہد نبھائے نہ ہمنوائی کرے
اسے کہہ دو تسلی سے بیوفائی کرے۔
(25)
آج میں خود سے ہوگیامایوس
آ ج میر ا اک یارمرگیا۔
(26)
مجھے اپنے مرنے کا غم نہیں لیکن
ہائے !میں تجھ سے بچھڑجاؤں گا۔
(27)
جو گزاری نہ جاسکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے ۔
(28)
بند باہر سے میری ذات کا دَر ہے مجھ میں
میں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میں ۔
(29)
تو میرے بعد رکھے گامجھے یاد
میں اپنے بعد اک لمحہ نہ چاہوں ۔
(30)
اتنی شدّت کی بغاوت ہے میرے جذبوں میں
میں کسی روز محبت سے مکر جاؤں گا۔
(31)
مجھے اپنے مرنے کا غم نہیں لیکن
ہائے !میں تجھ سے بچھڑجاؤں گا۔
(32)
بند باہر سے میری ذات کا دَر ہے مجھ میں
میں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میں ۔
(33)
جو گزاری نہ جاسکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے ۔
(34)
تو میرے بعد رکھے گامجھے یاد
میں اپنے بعد اک لمحہ نہ چاہوں ۔
(35)
جانے کیا واقعہ ہے ہونے کو
جی بہت چاہتاہے رونے کو۔
(37)
تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا۔
(38)
زندگی کس طرح بسر ہوگی
دل نہیں لگ رہا محبت میں ۔
(39)
اک رنگ سی کمان ہو خوش بوساایک تیر
مرہم سی واردات ہواور زخم کھاؤں میں ۔
(40)
میں تیرے دَرپہ لگاؤں گاکچھ اس طور صدا
دیکھورقص کریں گے تیرے درباں اب کے ۔
(41)
کیا کہا ، عشق جاودانی ہے !
آخری بار مِل رہی ہوکیا؟
(42)
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روزاک چیز ٹوٹ جاتی ہے ۔
(43)
سوچتاہوں کبھی کبھی یوں ہی
آخر ہرج کیا تھا، اسے منانے میں ۔
(44)
غیر کے دل میں ا گراُترناتھا
میرے دل سے اُترگئے ہوتے۔
(45)
کمینے ہوگئے جذبے ، ہوئے بدنام خواب اپنے
کبھی اِس سے کبھی اُس سے محبت ہوگئی آخر۔
(46)
شہرآباد کرکے شہر کے لوگ
اپنے اندر بکھرتے جاتے ہیں ۔
(47)
بھٹکتاپھر رہاہو ں ، جستجوبِن
سراپاآرزوہوں ،آرزوبِن۔
(48)
اے شخص میں تیری جستجومیں
بے زارنہیں ہوں ، تھک گیاہوں ۔
(49)
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا؟
(50)
تو میراحوصلہ تو دیکھ ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوق کمال بھی نہیں ، خوف زوال بھی نہیں ۔

Comments
Post a Comment