Mir Taqi Mir Poetry

 


Mir Taqi Mir Poetry


(1)


اب کر کے فرا موش تو نا شا د کرو گے

پر ہم جو نہ ہو ں گے تو بہت یا د کرو گے۔

میر تقی میرؔ


(2)


 دیکھ تو دل ، کہ جاں سے اٹھتا ہے

یہ دھواں سا کہا ں سے اٹھتا ہے۔


(3)



گلی میں اس کی گیا سوگیانہ لوٹاپھر

میں میرمیرکرکے اس کو بہت پکاررہا۔


(4)


ہم ہوئے ، تم ہوئے ، کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیرہوئے۔


(5)


عشق کرتے ہیں اس پری روسے

میرؔ صاحب بھی کیادیوانے ہیں۔


(6)


کوئی تجھ سا بھی کاش تجھ کوملے

مدعاہم کو انتقام سے ہے۔


(7)


مجھے شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے

رنج وغم لاکھ جمع کیے تو اک دیوان کیا۔


(8)


بن پوچھے کرم سے گر وہ بخش نادیتا تو

پر سش میں ہماری ہی یہ دن حشرکاڈھل جاتا۔


(9)


بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا۔


(10)


جب کہ پہلوسے یار اٹھتاہے

درد بے اختیار اٹھتا ہے۔


(11)


اخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میں

بے فائدہ ہے ورنہ یوں وقت کھویئے ۔


(12)


کرتے ہیں میری خامیوں کاتذکرہ اس طرح

لوگ اپنے اعمال میں فرشتے ہوں جیسے ۔


(13)


شام سے کچھ بجھاسارہتا ہے

دل ہواہے چراغ مفلس کا۔


(14)


وہ تجھ کو بھول گئے تو تم پر بھی لازم ہے میرؔ

خاک ڈال ، آگ لگا، نام نہ لے ، یادنہ کر۔


(15)


دل کی ویرا نی کا کیا مذکُور ہے

یہ نگر سو مر تبہ لُو ٹا گیا


(16)


وہ آ ئے بزم میں ،اتنا تو میرؔ نے دیکھا

پھر اُسکے بعد چرا غو ں میں رو شنی نہ رہی


(17)


وہ تُجھ کو بھُو لیں ہیں تو تجھ پے لازم ہے میرؔ

خاک ڈال،آگ لگا،نام نہ لے،یا د نہ کر


(18)


تجھی پر کچھ اے بُت نہیں منحصر

جسے ہم نے پُو جا خُدا کر دیا


(19)


اب کرکے فراموش توناشادکروگے

پرہم جونہ ہوں گے تو بہت یادکروگے۔


(20)


شام سے کچھ بجھاسارہتا ہے

دل ہواہے چراغ مفلس کا۔

Comments