(1)
کوئی ملاہی نہیں جس کوسونپتے محسنؔ
ہم اپنے خواب کی خوشبو، خیال کاموسم۔
(2)
اتنے ظالم نہ بنوکچھ تو مروت سیکھوغالب ؔ
تم پہ مرتے ہیں تو کیا مارہی ڈالوگے ہمیں؟
(3)
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
میری وحشت تری شہرت ہی سہی۔
(4)
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھاہے۔
(5)
الگ تھا تیرا اندازسب سے الگ تھا تیرامزاج بھی
توغالب نہ تھا فقط تو سب پہ غالب ہے آج بھی۔
(6)
ہوئی مدت کہ غالب ؔ مرگیا، پر یادآتاہے
وہ ہراک بات پرکہنا کہ یوں ہوتاتو کیا ہوتا۔
(7)
جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادانہ ہوا۔
(8)
بے وجہ نہیں روتا عشق میں کوئی غالب
جسے خودسے بڑھ کے چاہووہ رلاتاضرورہے۔
(9)
بنا کر فقیروں کاہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں۔
(10)
وہ مجھ سے بچھڑکراب تک رویانہیں غالبؔ
کوئی توہے ہمدردجواسے رونے نہیں دیتا۔
(11)
حیف اس چار گز کپڑے کی قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
(12)
دفن کرنے سے پہلے میرا دل _________نکال لینا"غالب"
کہیں خاک میں نہ مل جائیں میرے دل میں رہنے والے
(13)
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
دھو گئے ہم اتنے کہ ہم پا ک ہو گئے
(14)
عمر بھر ہم یو نہی غلطی کرتے رہے غالبؔ
دُھول چہرے پے تھی اور ہم آ ئینہ صا ف کرتے رہے
(15)
بے خو دی بے سبب نہیں غا لبؔ
کچھ تو ہے،جس کی پردا داری ہے
(16)
کرنے گئے تھے تغا فل کا ہم اُن سے گِلہ
کی ایک ہی نگا ہ کہ بس خاک ہو گئے
(17)
حیراں ہوں تم کومسجد میں دیکھ کے غالب ؔ
ایسابھی کیا ہواکہ خُدایادآگیا۔
(18)
موت آئے تو دن پھر یں غالب ؔ
زندگی نے تومارڈالاہے۔
(19)
کب وہ سنتا ہے کہانی میری
اور پھر وہ بھی زبانی میری ۔
(20)
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخرستم کی کچھ تو مکافات چاہئیے۔
(21)
رہئیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو۔
(22)
بس ختم کریہ بازی عشق غالب ؔ
مقدر کے ہارے کبھی جیتانہیں کرتے۔
(23)
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسامرے آگے۔
(24)
ہم کو ان سے وفاکی ہے امید
جو نہیں جانتے وفاکیاہے۔
(25)
نہ تھا کچھ تو خداتھا ، کچھ نہ ہوتا تو خُداہوتا
ڈبویامجھ کو ہونے نے، نہ ہوتامیں، تو کیا ہوتا۔
(26)
غالب ؔ وہ دن گئے اب یہ حماقت کون کرتاہے
وہ کیا کہتے ہیں اس کو ہاں ۔ محبت ۔ محبت کون کرتاہے۔
(27)
کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہوگئے۔
(28)
ان کے دیکھے سے جو آتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھاہے۔
(29)
ہیں اور بھی دنیا میں سُخنوربہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب ؔ کاہے اندازِبیاں اور۔
(30)
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایاتھاکہ سریادآیا۔
(31)
درد ہودِل میں تو دواکیجیے
دِل ہی جب دردہوتو کیاکیجیے۔
(32)
پھر اسی بے وفاپہ مرتے ہیں
پھر وہی زندگی ہماری ہے۔
(33)
بس کہ دشوار ہے ہر کام کاآساں ہونا
آدمی کو بھی میسرنہیں انساں ہونا۔
(34)
فقط ایک کاہونے میں ہی حسن بندگی ہے غالب ؔ
جو روزقبلہ بد لتے ہے وہ بے دین ہوتے ہیں۔
(35)
سکون اور عشق وہ بھی دونوں ایک ساتھ
رہنے دوغالبؔ کوئی عقل کی بات کرو۔
(36)
رہی نہ طاقت گفتاراوراگرہوبھی
تو کس امیدپہ کہیے کہ آرزوکیاہے۔
(37)
غالب ؔ نہ کرحضورمیں توباربارعرض
ظاہرہے تیراحال سب ان پرکہے بغیر۔
(38)
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کرجیتے ہیں جس کافرپہ دم نکلے۔
(39)
جی ڈھونڈتاہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
بیٹھے رہیں تصورجاناں کیے ہوئے۔
(40)
عشق نے غالبؔ نکماکردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے۔

Comments
Post a Comment