(1)
ہم وقت کی رفتار سے بدلنےوالے لوگ نہیں
ہماری ملاقات جب بھی ہو گی انداز پرانا ہوگا.
(2)
ہم بھی گھر سے منیر تب نکلے
بات اپنوں کی جب سہی نہ گئی
(3)
دوستی سچی ہونی چاہئے..!
پکی تو سڑکیں بھی ہوتیں ہیں..!
(4)
کون خریدے گا ہیروں کے دام تیرے آنسو
وہ جو درد کا تاجر تھا شہر چھوڑ گیا
(5)
قیامت خیز ہیں آنکھیں تمہاری
تم آخر خواب کس کے دیکھتے ہو
(6)
ﺩﻭ ﮨﯽ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﻬﺮ، ﺣﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ
ﻧﯿﻨﺪ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ
(7)
سیاہ رات کے دامن میں چھپ کے روتے ہیں
بہت سے خواب جنہیں روشنی نہیں ملتی
(8)
میں سن کے اس کی سب باتیں فقط اتنا ہی کہتا ہوں
کہاں آپ؟ کہاں وفا،،،بس کیجئے ... رہنے دیجئے
(9)
مسکراہٹ کی بات کرتے ہو
جی رہا ہوں یہی غنیمت ہے
(10)
محبت کیا ھے اہل علم جانیں
ہمیں عادت تمہاری ہو گئی ھے
(11)
جسم چھونے سے محبت نهیں هوتى
عشق وه جذبه هے جسے ایمان کهتے هیں
(12)
اکیلے رات بھر تڑپتا رہا مریض شام غم غالب
نہ تم آئے ، نہ نیند آئی، نہ چین آیا ، نہ موت آئی
(13)
اس نے توڑا میرا دل اس سے کوئی شکائیت نہیں
یہ اس کی امانت تھی ، اسے اچھا لگا سو توڑ دیا
(14)
گلے ملتے ہیں جب کبھی دو بچھڑے ہوئے ساتھی
ہم بے سہاروں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے
(15)
قابل دید آنکھیں اور ان آنکھوں سے
خود ہی پامال ہوئے خود ہی تماشا دیکھا
(16)
رات دروازے پہ کتنی دستکوں کے نشان تھے
پھر وہی پاگل ہَوا تھی ، پھر مجھ سے دھوکہ ہوا
(17)
کون خریدے گا ہیروں کے دام تیرے آنسو
وہ جو درد کا تاجر تھا شہر چھوڑ گیا
(18)
عشق وہ کھیل نہیں جو چھوٹے دل والے کھیلیں
روح تک کانپ جاتی ہے صدمے سہتے سہتے
(19)
نہیں ہے سنگ کوئی ہمسفر تو کیا ہوا
خاموشیاں ، ویرانیاں ، رسوائیاں تو ہیں
(20)
یاد آتے ہیں آج اُف گناہ کیا کئے
پہلا کہ محبت کر لی آخری یہ کہ تجھ سے کر لی
(21)
کرو پھر سے کوئی وعدہ کبھی نہ پھر بچھڑنے کا
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ، بچھڑنے میں مکرنے میں
(22)
وہ جسے سمجھا تھا زندگی ، میری دھڑکنوں کا فریب تھا
مجھے مسکرانا سکھا کے وہ میری روح تک کو رلا گیا
(23)
عمر بھررہے تیری جستجو میں ہم
تو نہ ملا کسی کافر کو جنت کی طرح
(24)
اک وہ ظالم جو دل میں رہ کر بھی میرا نہ بن سکا
اور دل وہ کافر جو مجھ میں رہ کر بھی اس کا ہو گیا
(25)
کبھی کافر کبھی مجرم بنا شہر منافق میں
سزائے موت لی اس نے یہاں جس نے وفا مانگی
(26)
محبت دیکھی میں نے زمین کے لوگوں کی وصی
جہاں کچھ دام زیادہ ہوں وہاں لوگ بک جاتے ہیں
(27)
اسے تو کھو دیا اب نجانے کس کو کھونا ہے
لکیروں میں جدائی کی علامت اب بھی باقی ہے
(28)
غم کی جاگیر وراثت میں ملی مجھ کو
اپنی جاگیر میں رہتا ہوں نوابوں کی طرح
(29)
وہ اس قدر اپنی ذات میں الجھا رہا محسن
کہ وہ کس کس کو بھول گیا اسے خبر نہ ہوئی
(30)
مجھے معلوم ہے تم خوش بہت ہو اس جدائی سے
اب خیال رکھنا اپنا ، تمہیں تم جیسا نہ مل جائے

Comments
Post a Comment