Wasi Shah Poetry

 


Poetry By Wasi Shah !!!


(1)


کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو

میرے مو لا کا وصیؔ ،جو نہی اشارہ ہو گا


(2)


کرنے ہیں اگر شکوے محبوب سے وصی

پھر چھوڑ دے محبت کوئی اور کام کر


(3)

 

ہم غریب اچھے ہیں دنیا دار لو گوں سے و صیؔ

ہم اپنے خواب ضرور تو ڑتے ہیں کسی کا دل نہیں۔


(4)


باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجالیں تم کو

جی میں آتا ہے کہ تعویذبنا لیں تم کو۔


(5)


لٹادیا ہم نے اپنا سب کچھ حاصل زندگی وصیؔ

بادشاہ سے فقیرہوئے صرف وفاکی تلاش میں ۔


(6)


اس نے یہ میری محبت کو نیا موڑدیا

آج میرے لیے بالوں کو کھلا چھوڑدیا۔


(7)


آج میری آنکھوں میں ساون اترے گا

آج بہت دن بعد تری یاد آئی ہے ۔


(8)


وہ جسے نیند کہاکرتے ہیں سب ،چین کی نیند

وہ تیرے بعد کبھی آنکھ میں اتری ہی نہیں ۔


(9)


یہ بھول ہے اس کی کہ آغاز گفتگوہم کریں گے وصیؔ 

ہم جوخودسے بھی روٹھ جائیں تو صدیوں خاموش رہتے ہیں۔


(10)


ہم سے زندگی کی حقیقت نہ پوچھووصیؔ

بہت پُرخلوص لوگ تھے جو تنہاکرگئے۔


(11)


وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا

اسے بھی اپنے کیے کاملال ہونا ہے ۔


(12)


تم میری آنکھ کے تیور نہ بھلا پاؤگے

ان کہی بات کوسمجھوگے تویاد آؤں گا۔


(13)


اک یہی آس ہی کافی ہے میرے جینے میں

دل نہیںآپ دھڑکتے ہیں میرے سینے میں۔


(14)


یقین مانوکوئی مجبوریاں نہیں ہوتیں

لوگ عادتاََوفانہیں کرتے۔


(15)


میں کیسے سرد ہا تھوں سے تمہارے گال چُھوتا تھا

دسمبر میں تمہیں میری شرارت یاد آ ئی گی



(16)



یہ بُھو ل ہے اس کی کہ آ غا زِ گفتگو ہم کریں وصیؔ

ہم جو خو د سے بھی روٹھ جا ئیں تو صدیوں خا موش رہتے ہیں


(17)


یہ میرا حو صلہ ہے تیرے بغیر

سانس لیتا ہوں ،با ت کرتا ہوں


(18)


وقت یکساں نہیں رہتاکبھی سن لے اے دوست

کبھی خود بھی روپڑتے ہیں اوروں کو رلانے والے ۔



(19)


تمہیں معلوم ہے جاناں !کہ تم بھی ایک قاتل ہو

میرے اندرکااک ہنستاہواانسان تم نے مارڈالاہے۔


(20)


تیری یاد آئے تو نیند جاتی رہتی ہے

خواب ٹوٹ جاتے ہیں ، اب بھی تیری آہٹ پر۔

Comments