Poetry by Wasif Ali Wasif
(1)
انسان جتنی محنت خامی چھپانے میں صرف
کرتاہے اتنی محنت میں خامی درر کی جاسکتی ہے۔
(2)
بات ہی رہ جائے گی تاریخ میں
ورنہ اس دنیامیں جو آیا ، گیا
(3)
واصفؔ مجھے ازل سے ملی منزل ابد
ہردور محیط ہوں جس زاویے میں ہوں۔
(4)
رات کیسے بسر ہوئی واصفؔ
دن کوہے کیوں خمار آنکھوں میں۔
(5)
وہ شخص جس کو حوصلے میں نے عطاکیے
واصفؔ وہ میرے عزم کی توہین کرگیا۔
(6)
بے گناہی بھی جرم ہے واصفؔ
اور اس جرم کی سزا، مت پُوچھ۔
(7)
کوئی درویش خدمت ، قلندر، واصفؔ
آگیاتیرے مقابل تو وہیں مات سمجھ۔
(8)
وہ جس نے توڑدیاجام آرزوواصفؔ
اسی کے نام سے منسوب ہیں میرے اشعار۔
(9)
بڑے یقین سے دیکھی تھی ہم نے صبح امید
قریب پہنچے توواصفؔ وہ روشنی نہ رہی۔
(10)
واصفؔ کو سردارپکاراہے کسی نے
انکارکی صورت ہے نہ اقرارکی صورت۔
(11)
بڑے یقین سے دیکھی تھی ہم نے صبح امید!
قریب پہنچے توواصفؔ وہ روشنی نہ رہی۔
(12)
اب جاں سے گزرنے کاہے اک مرحلہ باقی
رشتوں کی اذیّت کاسفرکاٹ چکاہوں۔
(13)
اپنا خیال بھی اہم ہے لیکن سب سے اہم خیال
اس کاہے جس نے تجھے صاحب خیال بنایا۔
(14)
کبھی افلاک پردیکھی گئی ذرّوں کی تابانی
کبھی تاروں کو واصفؔ خاک میں ملتے ہوئے دیکھا۔
(15)
اپنے اپنے مزارمیں واصفؔ
اپنی اپنی صفات کی خوشبو۔
(16)
کیوں نہ واصفؔ بپاہواک محشر!
موت سے پہلے مررہاہوں میں۔
(17)
انسان اندرسے ٹوٹ جائے تو تعمیرحیات
کی کتابیں کچھ مدد نہیں کرسکتیں۔
(18)
محبت انسان کو محبوب کے سوا
ہر شے سے اندھاکردیتی ہے۔
(19)
منزل ہے بہت دورمگر تقرب
واصفؔ ترے قدموں کے نشانات میں گم ہے۔
(20)
ہم ہر حا لت سے سمجھو تہ کر لیتے ہیں
ہم صرف انسا نوں سے سمجھو تہ نہیں کرتے

Comments
Post a Comment